مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شمالی تھائی لینڈ میں واقع تنگ غار میں پھنسے 12 نوعمر فٹ بال کھلاڑیوں اور ان کے 25 سالہ کوچ کو باہر نکالنے کی سرتوڑ کوشش کی جارہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کوچ سمیت تمام بچے بہت کمزور اور لاغر ہوچکے ہیں اور انہیں تیرا کر باہر نکالنا ناممکن ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق بچوں کی عمریں 11 سے 15 برس کے درمیان ہیں اور وہ اپنے کوچ کے ساتھ غار میں پہنچے تھے کہ بارش ہوگئی اور کئی کلومیٹر طویل اس غار میں بارش کا پانی بھرنا شروع ہوگیا تھا۔ تمام افراد کو غار کے آخری کنارے پر ایک قدرے اونچی جگہ پر پناہ لینی پڑی تھی اوروہ واپس آنے سے قاصر تھے۔ ایک ہفتے سے زائد وقت کی تلاش کے بعد جب وہاں چند غوطہ خور پہنچے تو انہوں نے بچوں کو بھوک کی حالت میں دیکھا۔ اس کے بعد انہیں غذا اور دوائیں پہنچانے کا کام شروع ہوا۔ اس غار کا نام تھام لوانگ نینگ نون ہے۔ اب تک غاروں میں غوطہ خوری کے درجنوں ماہرین نے ان بچوں تک پہنچنے کی کوشش کی ہے جس کے لیے انہیں کئی کلومیٹر تیرنا پڑتا ہے جس میں 10 سے 12 گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ تاہم غار میں پھنسے افراد کی بحفاظت واپسی کے لیے تھائی لینڈ کی بحریہ، امریکہ و برطانیہ کے ماہر غوطہ خوروں، غاروں میں ریسکیو کا تجربہ رکھنے والے ماہرین اور دیگر افراد نے بچوں کو بچانے کے لیے کئی آپشنز پر غور شروع کردیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چند دنوں بعد بارشوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور غار میں پانی بھرنے سے آخری پناہ گاہ بھی ڈوب سکتی ہے۔ اسی لیے پائپوں کے ذریعے فی گھنٹہ ہزاروں لیٹر پانی باہر نکالا جارہا ہے تاکہ اسے بچوں تک پہنچنے سے روکا جاسکے ۔ محکمہ موسمیات نے اس ہفتے علاقے میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریسکیو ماہرین کی تشویش وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔
شمالی تھائی لینڈ میں واقع تنگ غار میں پھنسے 12 نوعمر فٹ بال کھلاڑیوں اور ان کے 25 سالہ کوچ کو باہر نکالنے کی سرتوڑ کوشش کی جارہی ہے۔
News ID 1881984
آپ کا تبصرہ